کورونا ویکسین کی آمد سے قبل ہی بہت سی غلط فہمیاں پھیل رہی ہیں

ہمیں ان معالجین کا شکر گزار ہونا چاہئے جنھوں نے کورونا ویکسین تیار کی ہے
کورونا کو آئے پورا ایک سال ہوچکا ہے۔ایک سال میں دنیا میں بہت سی تبدیلیا واقع ہوئی ہیں ان میں مثبت تبدیلیاں بھی ہیں اور منفی بھی۔اگر ایک طرف دنیا میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے،غربت نے مزید پاؤں پسارے ہیں،بازار بے رونق ہوئے ہیں تو دوسری طرف امبانی اور اڈانی کی دولت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔مادی وسائل کا استعمال کم ہوا ہے تو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔البتہ کل ملا کر یہی کہا جائے گا ان الانسان لفی خسر یعنی تمام انسان خسارے میں ہیں۔اب ایک سال بعد اطلاعات مل رہی ہیں کہ دنیا میں کورونا کا علاج تو نہیں البتہ کورونا سے بچاؤ کا ٹیکہ یعنی کورونا ویکسین تشریف لے آئی ہیں۔اگرچہ بہت دیر کردی مہرباں آتے آتے۔اس کے باوجودہم سب ویکسین کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

 

سنا ہے کہ ویکسین کی آمد کسی ظل الٰہی کی آمد سے کم نہیں ہے۔بڑی تیاریاں کرنا ہوں گی۔بڑے بڑے ریفریجریٹر کی ضرورت ہوگی تا کہ ویکسین کا مزاج ٹھنڈا رہے۔سرد علاقوں میں رکھی جائیں گی۔ویکسین لگانے والی ٹیم بھی الگ ہوگی ان کو اس کی تربیت دی جائے گی۔خیر ہر سطح پر اس کے استقبال کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ہمارے ملک کی دواساز کمپنیوں نے بھی ویکسین بنانے کا کام کیا ہے مگر ابھی آخری مرحلے میں ہے۔البتہ چین،امریکہ،روس اور برطانیہ میں ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔اسی بیچ اچھی خبر یہ بھی آئی ہے کہ نیوزی لینڈ نے خود کو وائرس فری ملک قرار دے دیا ہے۔

 

کورونا ویکسین کی آمد سے قبل ہی بہت سی غلط فہمیاں سماج میں پھیل رہی ہیں۔کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ یہودیوں کی ویکسین ہے جس سے انسان قوت تولید سے محروم ہوجائے گا اور نسل انسانی کی تخلیق کا سلسلہ رک جائے گا۔ایک صاحب فرمارہے تھے کہ اس کو لگانے کے بعد انسان ماں بہن اور بیوی میں فرق نہیں کرسکے گا اور بے حیائی کی انتہا کو پہنچ جائے گا۔کسی دانشور کے بقول اس ویکسین کے ذریعہ انسان کے جسم میں اس طرح کے جراثیم داخل کردئے جائیں گے جس کی وجہ سے وہ ہر وقت سرکارکی نظر میں رہے گا۔بعض کے بقول سرکاریں اس کا استعمال لوگوں کے افکار و نظریات بدلنے اور پنا ہمنوا بنانے کے لیے کریں گی۔غرض جتنے منھ اور اتنی باتیں۔لیکن ان غلط فہمیوں کا منفی اثر یہ پڑے گا کہ لوگ ویکسین نہیں لگوائیں گے،جس طرح کورونا کے ٹیسٹ سے عام انسان کی جان سوکھ جاتی ہے اور ٹیسٹ کے نام پر وہ بھاگتا ہے،مریض کے گھر والے بھی گھبرا جاتے ہیں اسی طرح اب ویکسین کے نام سے لوگ بھاگیں گے اور وہی منظر ہوگا جو کبھی چیچک اور پولیو کے ٹیکے کے موقع پر ہوا تھا۔

 

 

ویکسین کے متعلق غلط فہمیاں پیدا ہونا فطری بات ہے۔کیوں کہ خود کورونا کے تعلق سے بھی ابھی تک عام عوام غلط فہمیوں میں جی ر ہے ہیں۔عوام کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کورونا بازاروں اور تجارتی مراکز یا تعلیم گاہوں میں ہی کیوں ہے؟الیکشن سے متعلق ریلیوں اور نیتاؤں کی کانفرنسوں یا سرکاری بسوں اور سرکاری ٹرانسپورٹ سسٹم میں کیوں نہیں ہے۔بہار جیسے سہولیات سے محروم ریاست میں پورا الیکشن اس طرح ہوگیا جیسے کورونا کبھی آیا ہی نہ ہو،بہار کی جیت پر ہمارے زیر اعظم نے شاندار جشن منایا اور کورونا منھ دکھتا رہ گیا۔الیکش ختم ہوتے ہی پھر کورونا کے کیسیز بڑھنے لگے اور دہلی سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں بازار بند ہونے،شادی بیاہ میں لوگوں کے اکٹھا ہونے پر پابندی کی خبریں آنے لگیں۔وہ تو شکر ہے کہ بنگال کا الیکشن سر پر ہے اس لئے شاید اہل حکومت نے کورونا کے پاؤں کھینچ لیے ورنہ کورونا کی دوسری لہر کی آمد نے مزدور اور غریب انسان کی سانسیں روک دی تھیں،اور کورونا کی دہشت ایک بار پھر دل و دماغ پر چھانے لگی تھی۔

کورونا ہو یا کورونا کی ویکسین ان کے متعلق غلط فہمیوں کو دور ہونا چاہیے۔ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ کورونا ایک بیماری ہے۔متعدی بیماری ہے۔اس سے متائثر ہوکر دنیا بھر میں سولہ لاکھ سے زیادہ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اپنے ملک میں ہی ایک لاکھ چوالیس ہزار لوگ مرچکے ہیں۔اگرچے ان اعداو شمار میں گھپلہ و گھوٹالے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتالیکن کورونا کے وجود کے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔اب کورونا کو تسلیم کرلینے کے بعد یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ اس کی ویکسین بھی ہے جو اس بیماری سے لڑنے کے لیے ہمارے جسم کے مدافعتی نظام کو قوت دے گی۔خواہ مخواہ کی غلط فہمیوں کو پالنے اور پھیلانے کے بڑے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ہمیں یاد ہے کہ پولیوکی دوا پلانے کے وقت میں بھی بہت سی غلط فہمیاں پائی گئی تھیں خاص طور پر مسلمانوں میں یہ غلط فمہیاں زیادہ پھیل جاتی ہیں اور ان کی طرف سے سرکاری عملے کی مخالفت بھی زیادہ ہوتی ہے۔پولیو کے تعلق سے بھی علماء اور مدارس کو جواز کے فتوے صادر کرنے پڑے تھے۔اس مخالفت کی وجہ سے پوری مسلم امت نشانے پر آجاتی ہے اور جاہل کے لقب سے نواز دی جاتی ہے۔حالاں کہ ملک کی پراچین سبھیتا پر فخرکرنے والوں نے دیے جلاکر،تھالی بجا کر ’گو کورونا گو‘کے نعرے لگائے تھے اور گوبر جسم پر مل کر اور گائے کا پیشاب پی کر اپنی دانست میں کورونا کا علاج کیا تھا۔ ظاہر ہے یہ دونوں ہی عمل جہالت کی دنیا میں ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کے لیے کافی ہیں۔اس لیے کورونا ویکسین کے موقع پر ہمیں کسی بھی طرح کی غلط فہمی نہ خود پیدا کرناہے،نہ پھیلانا ہے،نہ کسی غلط فہمی کا شکار ہونا ہے۔بلکہ ویکسین خود لگوانا ہے،دوسروں کو لگوانے پر آمادہ کرنا ہے،سرکار اورسرکاری عملے کا تعاون کرنا ہے۔اس کے لیے ابھی سے ذہن سازی کرنا ہے۔اگر ایسا نہیں کیا گیا تو مسلم امت ہمیشہ کی طرح پیچھے رہ جائے گی۔میڈیا اسے طرح طرح کے القاب سے نوازے گا اور بدنام کرے گا۔علماء ابھی سے مساجد کے منبر سے اس بارے میں عوام کا ذہن صاف کریں۔ویکسین ایک دوا

اور علاج ہے۔دنیا میں لاکھوں بیماریاں ہیں جس طرح ان کی دوائیں ہیں اسی طرح اس نئی بیماری کی یہ نئی ویکسین ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلم دنیا اس کا علاج تلاش کرتی مگر وہ تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے اغیار کی طرف دیکھ رہی ہے۔ہمیں ان ڈاکٹروں اور معا لجین کا شکر گزار ہونا چاہئے جنھوں نے کورونا کی ویکسین تیار کی،کیوں کہ اس وقت یہ انسانیت کی بڑی خدمت ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ انسان کو اللہ نے خیر و شر کی تمیز دے کر بھیجا ہے اس سے یہ تمیز کوئی دوا یا ویکسین نہیں چھین سکتی۔نہ انسان کے افکار و نظریات کو بدلنے والی کوئی دوا آسکتی ہے۔ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اللہ کے منصوبے کے مطابق تمام روحیں دنیا میں ضرور آئیں گی۔انسان اللہ کی تخلیق ہے اس کے ہارڈ وئر میں بھلے ہی کوئی تبدیلی کی جاسکتی ہو لیکن اس کے سافٹ ویئر میں تبدیلی غیر ممکن ہے۔اللہ نے خیر و شر کے راستے سجھا دیے ہیں اب انسان کی مرضی ہے جو راستا چاہے اختیار کرے۔

کلیم الحفیظ۔دہلی

Posts created 52

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Begin typing your search term above and press enter to search. Press ESC to cancel.

Back To Top