تعلیمی جنگ میں ملت کے تعلیمی ادارے کس محاذ پر ہیں

یہ دور ہتھیاروں سے جنگ کا نہیں بلکہ قلم اور کرسر کی جنگ کا ہے

تعلیم ایک ایسا موضوع ہے جس پر جتنا لکھا جائے کم ہے ۔یہی حال علم کی وسعت کا ہے کہ جتنا حاصل کرلیا جائے کم ہے ۔تعلیم کے ساتھ تعلیمی نظریات بھی چلتے ہیں۔نظریہ اور فکر ہی انسانوں کو الگ الگ زمروں میں تقسیم کرتے ہیں ۔دنیا میں نظریات کے مابین جنگ ہمیشہ رہی ہے ۔تنظیمیں اور حکومتیں نظریات کے غلبے کے لیے ہر طرح کی جدو جہد کرتے رہے ہیں ۔اس جدو جہد میں کسی زمانے میں فوج، سپاہی، تیر ،توپ اور تلوار ہوا کرتے تھے مگر آج کے دور میں سب سے بڑا ہتھیار قلم ،کرسر، نصاب تعلیم اور نظام تعلیم ہے۔بھارت میں اسلام سے قبل کا نظام تعلیم سماج کے مخصوص طبقے کو حصول علم کی اجازت دیتا ہے۔اس نظام تعلیم کے تحت اک شمبوک کو علم حاصل کرنے کے عوض جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔اسلام کی آمد کے بعد اگرچہ تعلیم پر لگی قیدختم ہوگئی تھی مگر حصول علم کے ذرائع محدود ہونے کے سبب ایک بڑا طبقہ تعلیم سے محروم ہی رہا۔ یہاں اگرچہ کسی شمبوک کا قتل تو نہیں ہوا مگرمسلمانوں پر مقامی کلچر کے اثرات کا اثر ہی تھا کہ علم اور تعلیم صرف بڑے گھرانوں تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ۔اسی طرح نظریاتی طور پر اسلام سے قبل کا نظام تعلیم انسانوں میں پیدائش کی بنیاد پر تفریق اور نسل کی بنیاد پر تفوق اور شرک کا قائل تھا۔اسلامی نظام تعلیم کی بنیاد توحید اور انسانی مساوات پر تھی ۔

بھارت میں انگریزوں کی آمد کے بعد اگرچہ تعلیمی وسائل اور ذرائع میں بہت وسعت پیدا ہوئی اور تعلیم ہر شخص کی دست رس تک پہنچ گئی مگر نظری اور فکری اعتبار سے انگریزی نظام تعلیم الحاد و دہریت کا علم بردار تھا جو انسانوں کو خدا کے بجائے صرف پیٹ کا غلام بناتا تھا۔جس میں اخلاقی قدریں گم ہوگئیں تھیں اسی لیے علامہ اقبال نے کہا تھا۔

م تو سمجھے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

آزادی کے بعد کا نظام تعلیم انگریزی طرز پر ہی قائم رہا اور نظریات و افکار بھی تقریبا وہی قائم رہے اس لیے کہ بھارت کی حکومت جن افراد کے ہاتھوں می آئی وہ اسی نظام تعلیم کے پروردہ تھے۔انگریزی راج میں مسلمانوں نے اپنے تعلیمی نظام کو جیسے تیسے قائم و باقی رکھا اور خود کو الحاد و دہریت سے بچائے رکھا لیکن آزادی کے بعد وہ بے فکر ہوگئے اور سرکاری نظام تعلیم کا حصہ بن گئے ۔جس کا فکری محور کہنے کو تو سیکولرزم تھا مگر نصاب تعلیم میں اکثریت کی ثقافت کے اثرات نمایاں تھے ۔پھر یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ ابتدائی سطح پر سرکاری نظام تعلیم چوپٹ ہوگیا اور اس کی جگہ پرائویٹ تعلیمی ادارے قائم ہوئے ۔ملک بھر میں یہ ادارے ہر جگہ قائم ہوئے اور ہر مذہب کے لوگوں نے بنائے جہاں جس کی اکثریت اور ضرورت تھی انھوں نے پرائویٹ ادارے قائم کیے ۔ان اداروں میں عیسائی مشنری کے سینٹ میری اور سنگھ کے ششومندر سب سے نمایاں تھے ۔

 

ملک بھر میں عیسائی مشنری کے ذریعے تعلیمی ادارے قائم۔کیے گئے جب کہ عیسائیوں کی آبادی ملک میں اتنی بھی نہیں کہ اس کا ذکر کیا جائے ۔یہ ادارے شمال سے جنوب تک شہر اور دیہات میں ہر جگہ موجود ہیں۔ان اداروں میں چرچ بھی ہے اکثر اداروں میں پرنسپل عیسائی ہے ۔یہ ادارے تعلیم کے ساتھ ایک خاص نظریے کی تبلیغ کرتے ہیں۔

 

عیسائی مشنری کے طرز پر ہی ودھیابھارتی کے تحت تعلیمی ادارے قائم۔ہوئے یہ آر ایس ایس کا تعلیمی بورڈ ہے ۔سنگھ کے تحت پرائمری سے لے کر ڈگری کالج تک ادارے قائم ہوئے اب تو میڈیکل،انجینئرنگ اور دیگر پروفیشنل کورسیز کے ادارے بھی قائم ہوچکے ہیں۔ان اداروں میں بھی مذہبی رسوم کی ادائیگی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ عیسائی آبادی کے لحاظ سے 3 یا 4فیصد ہیں پھر انھوں نے اپنا تعلیمی نظام کیوں قائم کیا؟ اگر ان کا مقصد عیسائیت کا فروغ نہیں تو اور کیا ہے ؟اگر صرف تعلیم مقصد ہے تو تعلیمی ادارے میں چرچ کیوں ہے اور اکثر اداروں میں عیسائی پرنسپل کیوں ہے؟ اسی طرح آزادی کے بعد ملک کا اقتدار اگرچہ آئینی طور پر تمام بھارتیوں کے ہاتھوں میں آیا تھا مگر عملی طور پر اس ملک کے حکمراں اکثریت کے افراد ہی تھے ۔اس کے باوجود کہ حکمران بھی ہندو تھے ،ہندی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ بھی حاصل تھا اور تعلیم دینے والے اساتذہ کی اکثریت بھی ہندو تھی پھر آر ایس ایس نے الگ سے اپنا تعلیمی نظام کیوں نافذ کیا ۔اس کا مقصد سوائے اس کے کیا تھا کہ وہ ہندو مذہبی نظریات کا فروغ چاہتے تھے۔اگر ان کے نزدیک ہندتوکا فروغ مقصد نہیں تھا تو انھوں نے اپنے تعلیمی اداروں میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں اور مندر کیوں بنائے۔ان کے تعلیمی اداروں میں داخل ہوتے ہی احساس ہوتا ہے کہ آپ کسی مذہبی ادارے اور ماحول میں آگئے ہیں ۔اساتذہ کو آچاریہ کہا جاتا ہے ،آچاریہ حضرات کا لباس بھی خاص کلچر کی نمائندگی کرتا ہے ۔

 

ان دونوں اداروں کے تجزیہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تعلیمی ادارے تعلیم کے ساتھ نظریات اور افکار کو بھی پڑھاتے،فروغ دیتے اور غالب کرتے ہیں۔یہ تو میں نے صرف دو قوموں یا دو نظریات کے حامل اداروں کے حوالے سے چند باتیں کہیں ورنہ آپ تمام نظریاتی تحریکوں اور تنظیموں کے تعلیمی اداروں میں یہی چیز پائیں گے ۔مجھے اس سے اتفاق ہے کہ جو قوم یا تحریک اپنے تعلیمی ادارے قائم کرتی ہے اسے اپنے نظریات کے فروغ کا حق حاصل ہے لیکن میں اس سے اتفاق ہر گز نہیں کرتا اور نہ کسی محب وطن کو کرنا چاہیے کہ تعلیم کے ذریعے نئی نسل میں انسانیت دشمنی ،قوموں میں نفرت پیدا کرنے والے عناصر،عدم مساوات کے جذبات،نسلی برتری اور تفاخر کا احساس پیدا کیا جائے یہ چیزیں قوم،ملک اور انسانیت کے لیے تباہ کن ہیں ۔

 

آزادی کے بعد جیسا کہ میں نے عرض کیا عام مسلمانوں نے سرکاری تعلیمی اداروں پر انحصار کیا ۔اپنے مکاتب مسجد اور قرآن تک محدود رکھے ۔اپنا کوئی ایسا تعلیمی نظام مرتب نہیں کیا جو وقت ،قوم اور ملک کی ضروریات کی تکمیل کرتا ہو۔پرائویٹ ادارے اگر قائم بھی کیے تو وہ بھی برادران وطن کے اداروں کے طرز پر،دونوں میں کوئی نمایاں فرق نہیں تھا بلکہ معیار تعلیم کے لحاظ سے برادران وطن کے ادارے زیادہ بہتر تھے ۔مسلمان ادارے انتظامی تنازعات کا شکار ہوکر برباد ہوگئے ،اساتذہ کم تنخواہوں کا رونا روتے رہے ،بھائی بھتیجہ واد اور غیر اصولی پن نے بنیادیں تک ہلادیں اور اس طرح اسلاف کے قائم کردہ ادارے محض تعلیمی دوکان یا اجارہ داری کے مرکز بن کر رہ گئے۔آپ شمالی ہندوستان کے ان تمام تعلیمی اداروں کا جائزہ لے لیجیے جن کے نام کے ساتھ مسلم اور اسلامیہ کا لاحقہ ہے آپ کو کم و بیش یہی صورت حال نظر آئے گی ۔پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے بعد موجودہ دور آیا جس میں تعلیم تجارت بن گئی اور تعلیمی ادارے انفرادی سطح پر قائم ہوئے ۔جن کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہوگیا ان اداروں میں بھی برادران وطن نے اپنے تعلیمی اداروں میں بھارتی ثقافت کے مظاہر کو ہی ترجیح دی ۔مسلم تعلیمی ادارے عیسائی مشنری رنگ اور مغرب کی نقالی کرتے ہوئے ہی نظر آئے۔

 

میرے کہنے کا مدعا یہ ہے کہ تعلیم کی اس جنگ میں مسلمان کس محاذ پر ہیں ۔کیا ان کے پاس اپنا کوئی تعلیمی نظام ہے؟کوئی فکر اور نظریہ ہے؟ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد کیا ہے؟انھوں نے ادارہ کیوں قائم کیا ہے؟ان کے تعلیمی اداروں اور دیگر تعلیمی اداروں میں کیا نمایاں فرق ہے؟یہ وہ سوالات ہیں جو ہر اس شخص کو اپنے آپ سے کرنے چاہیے جس نے کوئی تعلیمی ادارہ قائم کیا ہے یا وہ کسی تعلیمی ادارے کا مینیجر یا پرنسپل ہے ۔ضرورت ہے کہ تعلیمی اداروں کے ذمہ داران ان سوالات پر غور فرمائیں اور اپنے تعلیمی ادارے کی سمت متعین کریں ۔ہمارے تعلیمی اداروں کا مقصد نئی نسل کو اس طرح تیار کرنا ہونا چاہیے کہ وہ اعلی اخلاقی اقدار کی پابند ہو،انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار اور ملک کی وفادار ہو۔اس کے اندر نسلی تفاخر کاجذبہ نہ ہو،وہ بھید بھاؤ اور اونچ نیچ کے تصور سے آزاد ہو۔اپنے تعلیمی اداروں کا ماحول اور معیار تعلیم ایسا ہو کہ غیر بھی وہاں پڑھنے کے خواہش مند ہوں۔یہ کام مشکل ہے مگر موجودہ حالات کی خطرناکی کے پس پردہ تباہ کن مستقبل دیکھنے والوں کے لیے کچھ مشکل نہیں۔خاص طور پر اہل مدارس زمانے کی ضروریات کے مطابق نصاب تعلیم کو اپ ڈیٹ فرما لیں تو ملک و ملت کی ایک بڑی ضرورت پوری ہوجائے گی۔

کلیم الحفیظ ۔ دہلی

Posts created 52

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Begin typing your search term above and press enter to search. Press ESC to cancel.

Back To Top