ملک کی سالمیت کا انحصار جمہوریت کی بقا پر ہے

جمہوریت کے تحفظ کی زیادہ ذمہ داری اکثریتی طبقے پر عائد ہوتی ہے

ملک نے 26 جنوری کو 72 واں یوم جمہوریہ منا یا ہے ۔کورونا مہاماری کی وجہ سے اگرچہ ماضی جیسی دھوم دھام تو نہیں رہی پھر بھی رسم و رواج کے مطابق سرکاری اداروں میں یوم جمہوریہ کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔البتہ کسانوں کے آندولن نے خاص یوم جمہوریہ کے دن ساری دنیا کو بھارت کی جمہوری تصویر دکھادی۔پانچ مہینوں سے اپنے جمہوری حق کا استعمال کرنے والوں پر خود اپنے ہی ملک میں لاٹھی ڈنڈے برسائے گئے ۔ کاش ابراہم لنکن کو کوئی بتاتا کہ انھوں نے جمہوریت کی جو تعریف بیان کی تھی بھارت میں اس کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور ایک منتخب سرکار اپنے شہریوں پر ان کی مرضی کے خلاف زبردستی قوانین نافذ کررہی ہے ۔سرکار کے غلط اقدامات کے باوجود جمہوریت کی خوبیوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

بھارت جیسے تکثیری سماج کے لیے جمہوریت کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔اس لیے ہم سب کو جمہوریت کی قدر کرنا چاہیے۔آزاد جمہوری نظام کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ ملک کے ہر شہری کو شہری ہونے کے ناطے بنیادی حقوق مساوی طور پر حاصل ہوتے ہیں ۔مساوی حقوق کا احساس ہی شہریوں کو وطن کی مٹی سے محبت کرناسکھاتا ہے اور وطن پر جان دینے کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔مساویت سے ہی اپنایئت کا جذبہ پراون چڑھتا ہے ۔اپنایئت کا احساس ہی انسان کے اندر ایثار اور قربانی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔اس کے بر عکس غیریت اور اجنبیت کا رویہ انسانوں سے محبت اور ایثار کا بیش قیمتی اثاثہ چھین لیتا ہے اور جس ملک کے شہریوں سے یہ اثاثہ چھن جاتا ہے تو وہ ملک دیوالیہ ہوجاتا ہے۔ ہمارا ملک پائدار جمہوریت کے معاملے میں ساری دنیا میں ممتاز مقام رکھتا ہے ۔ہمارے ملک میں جس قدر مختلف الخیال گروہ بستے ہیں اور ہر سو کلومیٹر کے بعد زبان۔رسوم اور رویات جس طرح بدل جاتی ہیں ایسا دوسرے ممالک میں بہت کم ہے ،ہمارے ملک میں ایک مذہب کے ماننے والوں میں بھی درجنوں فرقے ہیں اس کے باوجود ملک سے محبت اور ملک کے لیے ایثار کی قدر وہ مشترک قدر ہے جو ملک کے ہر خطے میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔آپ کہیں بھی چلے جائیے وہاں کی زبان الگ ہوسکتی ہے ان کا لباس اور طرز زندگی الگ ہوسکتا ہے مگر وطن سے محبت کا جذبہ ایک جیسا ہی ہوگا۔اہل ملک کی یہ خوبی کوہ نور ہیرے سے زیادہ قیمت رکھتی ہے اور اس خوبی کی بنیاد ہمارے ملک کی جمہوریت ہے۔ صاحبان اقتدار کو اہل ملک کی اس خوبی کی قدر بھی کرنا چاہیے اور اس میں اضافے کے لیے اسباب بھی فراہم کرنا چاہیے ۔

 

جمہوریت کی اسی خوبی کی وجہ سے بعض شیطانی عناصر جمہوری نظام سے نفرت کرتے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنھیں پیدائشی طور پر اپنے بڑے ہونے کا زعم ہوتا ہے۔ یہ لوگ جمہوریت کے مقابلے فسطائی نظام کی علم برداری چاہتے ہیں ۔جب کہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ فسطائیت ہر لباس میں ناپسند دیدہ سمجھی گئی ہے۔اور اس کو لمبی عمر صرف اسی صورت میں ملی ہے کہ اس نے عوام کے بنیادی حقوق بحال رکھے ہیں ۔کسی بھی صاحب اقتدار جماعت اور گروہ کا فسطائی رویہ اقتدار کی تقویت کا سبب تو بن سکتا ہے مگر ملک کی سالمیت کو خطرے میں ڈال دیتا ہے ۔ملک کی سالمیت کا انحصار اس پر موقوف ہے کہ ملک کے عوام ملک سے زیادہ سے زیادہ محبت کریں اور عوام کے اندر محبت ،ان کو حاصل حقوق پیدا ہوتی ہے۔جس قدر عوام کو آزادی حاصل ہوگی ،جس قدر ملک میں ان کی جان مال عزت آبرو اور عقیدہ و ایمان محفوظ ہوگا اسی قدر وہ ملک سے محبت کریں گے۔ کوئی صاحب اقتدار طبقہ ملک کے عوام کے درمیان تفریق پیدا کرنے لگے یا ملک کے عوام پر اپنے نظریات جبریہ نافذ کرنے لگے یا ایسی قانون سازی کرے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق ہی متاثر ہوجائیں تو اس کا یہ عمل عوام کے اندر ملک سے محبت کے جذبے کو کم کردے گا جو ملک کی سالمیت کے لیے نقصان دہ ہے۔خواہ اس کا یہ عمل جمہوریت کے لباس میں ہی کیوں نہ ہو۔ بلکہ جمہوری لباس میں تو یہ عمل بہت زیادہ تباہی کا باعث ہوسکتا ہے۔

جمہوریت کو باقی رکھنے کی ذمہ داری اگرچہ سارے شہریوں پر عائد ہوتی ہے لیکن بڑی ذمہ داری اسی طبقے یا گروہ کی ہے جس کی اکثریت ہوتی ہے ۔جمہوری نظام میں اکثریت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں کے جمہوری حقوق کی حفاظت کرے ۔جس ملک کے اکثریتی طبقے کے اندر سے اقلیتوں سے محبت کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے اور جمہوریت کے تحفظ کا احساس ختم ہوجاتا ہے یا خود اکثریت کی جانب سے جمہوریت پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ اکثریت ملک میں بد امنی،اور عدم استحکام یہاں تک کہ اس ملک کے زوال اور تقسیم کا باعث بن جاتی ہے ۔دوسری جانب اقلیتوں کے اندر اپنے حقوق کی بازیابی کی تحریکیں جنم لیتی ہیں۔اقلیتیں سڑکوں پر نعرے بازی کرتی ہیں ۔ہڑتال کرتی ہیں اور اس طرح ملک میں اقلیت اور اکثریت میں کشمکش کا آغاز ہوجاتا ہے۔اس کشمکش کا انجام خون آلود ہوتا ہے۔ اس کا واحد حل حقیقی جمہوریت کی بحالی میں ہی ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی گھر میں بڑا بھائی اگر اپنے چھوٹے بھائی کے حقوق سلب کرلیتا ہے تو دونوں بھائیوں میں محبت کے بجائے عداوت کا رشتہ پیدا ہوجاتا ہے اور خاندان نہ صرف کم زور ہوجاتا ہے بلکہ بعض اوقات تباہ ہوجاتا ہے ۔

 

تحفظ جمہوریت کی دوسری ذمہ داری سول سوسائٹی کے افراد پر عائد ہوتی ہے اس لیے کہ وہ سماج کا باشعور گروہ ہے ۔سول سوسائٹی کے افراد اگر تماش بین بن کر رہ جاتے ہیں تب بھی ملک تباہی کے راستے پر چل پڑتا ہے ۔سول سوسائٹی کے افراد اگر بروقت اپنی دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے کسی گروہ کو ظلم سے روکتے ہیں اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اقدام کرتے ہیں تو ملک مضبوط ہوتا جاتا ہے۔سول سوسائٹی میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ افراد زیادہ ذمہ دار ہیں ۔انھیں وقتی مصالح یا اہل مناصب کے مفاد کے بجائے آئین اور ملک کا مفاد عزیز ہونا چاہیے۔اس ضمن میں عوام کی آواز سمجھے جانے والے ادارے یعنی میڈیا کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے کہ وہ ملک میں ظلم کے خلاف آواز اٹھائے ۔جب کبھی اسے لگے کہ جمہوریت کا گلا گھونٹاجارہا ہے تو اسے اپنی آواز بلند کرنا چاہئے کیوں کہ خود میڈیا کا وجود بھی جمہوریت کے وجود پر ہی منحصر ہے ۔جس دن ملک میں جمہوریت کے بجائے فسطائیت کا راج ہوجائے گا تو زبان و قلم کی آزادیاں چھن جائیں گی اور میڈیا صرف چمچا بن کر رہ جائے گا۔اہل قلم کو اپنے ضمیر بیچنے پڑیں گے ۔یہ صرف نظریاتی بحث نہیں ہے بلکہ اسی ملک میں برٹش راج میں ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ فسطائیت ضروری نہیں ہے کہ غیر ملکیوں کے ہی ذریعے آئے خود اپنے ملک کی عوام کے منتخب نمائندے بھی فسطائی ہوسکتے ہیں برٹش راج میں ظلم کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد خود اہل ملک کی ہی تھی۔جب خود ملک کے شہریوں نے اپنے ملک کی عوام پر گولی چلانے اور ظلم کرنے سے انکار کردیا تو برٹش راج کی ہوا نکل گئی۔

 

تحفظ جمہوریت کی سب سے کم ذمہ داری اقلیتوں پر عائد ہوتی ہے ۔اس لیے کہ وہ خود فسطائی ظلم کا شکار ہوتی ہیں ۔کوئی بھی مظلوم طبقہ اس ظلم میں اضافے کا سبب نہیں ہوتا البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مظلوم ،ظلم برداشت کرکے ظالم کا حوصلہ بڑھا دیتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اقلیتوں کو اپنی آزادی کا احساس ہو انھیں اپنے حقوق معلوم ہوں وہ اپنے آئینی حقوق پر عمل کرتے ہوں اور جب کبھی ان کو حاصل حقوق پر ضرب پڑے تو اس کی حفاظت کے لیے میدان میں آجائیں تو جمہوریت کو بچایا جاسکتا ہے۔لیکن یہ بہت مشکل کام ہے ۔اکثریتی طبقے کے انصاف پسند افراد کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ کوئی اقلیت اپنے جمہوری حقوق کو بازیاب کراسکے۔

 

تاریخی دن یا کسی عظیم رہنما کاجنم دن منانے کا اس کے سوا کیا مقصد ہوسکتا ہے کہ ہم اس دن سے منسوب جو واقعات و حقائق ہیں ان کو سمجھیں اور اس تعلق سے اپنے فرائض ادا کریں۔یوم جمہوریہ کی سالانہ تقریبات بھی صرف اچھی تقریریں کرنے،ملک پر شہید ہونے والوں کے مزاروں اور تصویروں پر پھول چڑھانے ،یا پرچم کشائی کرنے کے ہی لیے نہیں ہیں بلکہ یہ دن ہمیں ملکی نظام جمہوریت کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا کرانے کے لیے ہے ۔ یہ دن ملک اور اہل ملک کی تقدیر اور روشن مستقبل لکھنے کا دن ہے ۔یہ ہر شہری کو یہ باور کرانے کا دن ہے کہ بھارت کے شہری ہونے کے ناطے اس کو اگر کچھ حقوق حاصل ہیں تو اس پر کچھ فرائض بھی عائد ہوتے ہیں جس میں سب سے بڑا فریضہ خود جمہوریت کا تحفظ ہے۔

 

کلیم الحفیظ ۔دہلی

Posts created 52

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Begin typing your search term above and press enter to search. Press ESC to cancel.

Back To Top