تعلیم کے ناقابل تلافی نقصان کی کسی کو بھی فکر نہیں

شادی بیاہ،میلے ٹھیلے،سیاسی و دھارمک سبھائیں سب کچھ ہورہا ہے نہیں ہورہی ہے تو صرف تعلیم
تعلیم کسی بھی سماج اور ملک کی ترقی اور خوش حالی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔انسان کی معاشی اور سماجی حیثیت کو اوپر اٹھانے میں تعلیم کے کردار سے کس کو انکار ہوسکتا ہے۔مگر مرکزی و ریاستی حکومتوں کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔سرکار کورونا لاک ڈاون میں آن لائن تعلیم کا بگل بجا کر خوش ہے اوردعوے کررہی ہے کہ ملک کے تمام اسکول آن لائن تعلیم بخوبی دے رہے ہیں۔جب کہ دیکھا جائے تو سیکینڈری اور سینیئر سیکینڈری کلاسیز میں بھی آن لائن تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی اوسط شرح صرف دس سے بیس فیصد ہی ہے۔پرائمری اور اپر پرائمری کا حال تو اس سے بھی زیادہ برا ہے۔پہلے سے چوپٹ سرکاری تعلیمی نظام کا بھٹہ ہی بیٹھ گیا ہے۔پرائیویٹ اسکولوں کو بھی اب تک ناقابل تلافی نقصان کا سامنا ہے۔کتنے ہی اسکول مالکان اپنے اسکولوں کے مستقبل کو لے کر فکر مند ہیں۔کرائے کی عمارتوں میں چلنے والے اسکول بند ہونے کے نشان پر ہیں،لاکھوں اساتذہ و مدرسین فاقہ زدگی کا شکار ہیں۔اساتذہ پڑھنے پڑھانے کے علاوہ باقی کسی کام کو نہیں کرسکتے۔اس لاک ڈاون میں ان کی سفید پوشی خطرے میں پڑ گئی ہے۔بعض لوگ بادل ناخواستہ پیٹ پالنے کے لیے سبزی فروشی اور مزدوری تک کررہے ہیں۔

 

حکومت نے ملک کو جب ان لاک کرنا شروع کیا تھا تو سب سے پہلے پاپ کی جننی شراب کی دوکانیں کھولی تھیں اور شراب کی دوکانوں پر بھیڑ کے نظارے دنیا نے دیکھے تھے۔اس کے بعد رفتہ رفتہ بازار کھلنے لگے خریدو فروخت ہونے لگی۔سرکاری بسیں چلنے لگیں ابتدائی ایام میں سوشل ڈسٹینسنگ کا لحاظ کیا گیا مگر جلد ہی بسوں میں سیٹوں کی تعداد کے مطابق مسافر سوار کیے جانے لگے سماجی دوری صرف اعلان اور موبائل میسیج تک رہ گئی۔الیکشنوں میں لاکھوں کے مجمعے لگے۔فتح کے جشن منائے گئے۔سماجی دوری تماشہ دیکھتی رہ گئی۔خدا خدا کرکے کورونا سے متاثرین کی تعداد گھٹنے لگی۔کورونا کے نئے اسٹرین نے چند دن خوف زدہ کیا مگر جلد ہی سرکار کو شاید اندازہ ہوگیا کہ اب جھوٹ اور دھوکا نہیں چلے گا۔اس لیے 8 جنوری سے لندن کے ہوائی سفر پر پابندی اٹھانے کا بھی اعلان کیا گیا۔سرکار کو یہ احساس ہے کہ نئے اسٹرین کے نام پر اگر لاک ڈاون کیاگیا تو عوام لاٹھی لے کر دوڑائے گی اس لیے اس کا ذکر تک کرنا چھوڑدیاہے۔لاک ڈاؤن کے بعد ہونے والے انتخابات میں مسلسل بی جے پی کی گرتی مقبولیت کے پس منظر میں نئے وائرس کی آمد بنگال میں فتح کے امکانات کو بھی ختم کرسکتی ہے۔شادی بیاہ،میلے ٹھیلے،سیاسی و دھارمک سبھائیں سب کچھ ہورہا ہے نہیں ہورہی ہے تو صرف تعلیم۔کچھ ریاستوں میں سیکینڈری اور سینیئر سیکینڈری کلاسیز کی اجازت مل بھی گئی ہے تو بچے لاپرواہی برت رہے ہیں۔آخر اسکولوں کو ہی بند کیوں رکھا جارہے۔وہی بچے جو اسکول آتے ہیں گلی محلے اور بازاروں میں گھوم پھر رہے ہیں انھیں وہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔اب جب کہ وبا کے اثرات کم ہوگئے ہیں اور ملک میں ویکسینیشن کا آغاز بھی ہوگیا ہے ہماری گزارش ہے کہ حکومت جملہ تعلیمی نظام کو بحال کرے۔

 

ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ بچہ اگر ایک دن کلاس سے غیر حاضر ہوجائے تو وہ چالیس دن پیچھے چلا جاتا ہے ایسے میں گزشتہ گیارہ مہینوں سے جن بچوں نے کتاب کھول کر بھی نہیں دیکھی اس کا کیا حال ہوگا۔ان حالات میں سرکار کی تعلیمی پالیسی کے تحت بچے کو آگے کے درجات میں ترقی بھی دی جائے گی۔جو بچہ اپنا پچھلا سبق بھول چکا ہو اس کو آگے کا سبق یاد کرنے میں کیا کیا دشواریاں آئیں گی اسے صرف ماہرین تعلیم ہی جان سکتے ہیں۔بنیاد کمزور رہ جائے تو بلند عمارت نہیں بنائی جاسکتی۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ جو بچے تعلیم سے کم و بیش ایک سال دور رہے ہیں وہ کس طرح آگے کی منزلیں طے کریں گے۔

 

سرکار کی نیتی اور نیتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے بچوں کی تعلیم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔حکومت کا منشا صرف اتنا ہے کہ ملک کے مستقبل کے ہاتھوں میں کاغذ کی ڈگریاں تھما دی جائیں۔چاہے ان ڈگری والوں کے اندر کوئی صلاحیت نہ ہو،اسی لیے سرکار نے سروسز دینے کے لیے ڈگری کے ساتھ ٹیسٹ اور انٹرویو بھی رکھے ہیں۔زیر تعلیم طلبہ کو سرکار کی یہ پالیسی سمجھنا چاہئے۔پورے ملک کا سرکاری نظام تعلیم پہلے سے ہی رام بھروسے ہے اب تو رام نام ستیہ ہونے والا ہے۔سرکاری اساتذہ کو تو تنخواہیں مل رہی ہیں مگر پرائیویٹ اساتذہ کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ان ناگفتہ بہ صورت حال کے باوجودکہیں سے بھی کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ہے،تعلیم کے نام پر بہت سی انجمنیں بھی موجود ہیں مگر وہ خاموش تماشائی ہیں۔گودی میڈیا کو بھی تعلیمی نقصان نظر نہیں آرہا ہے۔ٹی وی چینلوں پر سماج کو تقسیم کرنے والے مباحثے روز ہوتے ہیں لیکن تعلیم کے موضوع پر پورے سال کوئی ڈبیٹ نظر نہیں آتی۔ان حالات میں ملک کے اہل علم افراد،اساتذہ،اسکول منیجمینٹاور سرپرستو ں اور سماجی و تعلیمی انجمنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرکار سے اسکول کھولے جانے کی درخواست کریں۔تمام ضلع سطح پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعے وزیر اعظم اور صدر مملکت نیز وزیر تعلیم کو عرض داشت پیش کی جائے۔پریس کانفرنس کے ذریعے متوجہ کیا جائے اور اسکول انتظامیہ کووڈ کے اصولوں کی پابندی کی یقین دہانی کرائے تو ممکن ہے سرکاریں اس جانب توجہ دیں۔

 

 

تعلیم ایک سنجیدہ موضوع ہے۔یہ ہماری اہم ضرورت ہے۔اس کے بغیر زندگی کا تصور نہیں ہے۔آنے والے ڈیجیٹل انڈیا میں غیر تعلیم یافتہ افراد دوقدم بھی نہیں چل پائیں گے۔ہماری نسلوں کے سامنے اندھیرا چھا جائے گا۔لہٰذاہم میں سے ہر فرد کو اپنے بچے کے تعلیمی نقصان کا اندازہ کرنا چاہیے اور اس نقصان کی تلافی کی تمام ممکنہ تدابیر اختیار کرنا چاہیے۔سرکارسے آف لائن کلاسیز کی درخواست کے ساتھ ہی موجودہ آن لائن نظام تعلیم سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔اکثر مقامات پر دیکھا جا رہا ہے کہ والدین آن لائن تعلیم کو مذاق سمجھ رہے ہیں،یہ مذاق اور لاپرواہی خود اپنے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہوگی۔لاک ڈاؤن کے باوجود والدین اپنے بچے کی تمام ضروریات پوری کرہے ہیں لیکن تعلیمی ضروریات کی طرف سے غفلت برت رہے ہیں۔ہو سکتا ہے چند فیصد والدین آن۔لائن تعلیم کے لحاظ سے موبائل فون وغیرہ فراہم کرانے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کی کوئی مجبوری ہوسکتی ہے لیکن مسلم آبادی میں اسی فیصد طلبہ آن لائن تعلیم سے غیر حاضر ہیں۔یہ اچھا شگون نہیں ہے۔میری مساجد کے ائمہ،علماء،سماجی کارکنان اور بااثر افراد سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں اس جانب عوام و خواص کو متوجہ کریں تاکہ تعلیم کا جو ناقابل تلافی نقصان ہوچکا ہے اس کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔بچے کا مستقبل ہمارے لیے سب سے اہم ہے۔ہماری ساری تگ ودو اس کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔اس لئے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ بچے کے روشن مستقبل کے لیے جس طرح بچے کو غذا کی ضرورت ہے اسی طرح اسے تعلیم کی ضرورت ہے۔

 

کلیم الحفیظ۔دہلی

Posts created 52

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Begin typing your search term above and press enter to search. Press ESC to cancel.

Back To Top