آنکھوں میں تری آج یہ آنسو فضول ہیں

فسطائیت اپنی حکومت بچانے اور لوگوں کی گردنیں جھکانے کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے

کسانوں کے موجودہ احتجاج کو نصف سال ہورہا ہے ۔اس سے پہلے کسانوں نے اپنا احتجاج پنجاب میں ریل کی پٹری پر بیٹھ کر اور مختلف مقامات پر کالے قوانین کے خلاف جلسے جلوس نکال کر کیا تھا ۔اس وقت بھی مرکزی حکومت نے کسانوں کے احتجاج کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی اور اب بھی نہیں دے رہی ہے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت حکومت نے بات تک کرنا گوارہ نہیں کیا تھی اب بات کرنے کا ڈھونگ کررہی ہے ۔دہلی محاصرے کے بعد درجنوں دور کی بات چیت ہوچکی ہے ۔مگر یہ بات چیت مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے کسانوں میں پھوٹ ڈالنے ،انھیں کمزور کرنے ،ان کے ضمیر کو خریدنے کے لیے کی جارہی ہے۔حکومت نے یہ بھی نہیں سوچا کہ جس احتجاج کو اس نے خالصتانی تحریک سے جوڑ دیا تھا ، جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ چین کی نکسل وادی تحریک کا حصہ ہے اسی کے ساتھ بات چیت کی جارہی ہے ۔حکومت کی ناعاقبت اندیشی یہ بھی رہی کہ اس نے ایک جمہوری احتجاج کو علیحدگی پسندی سے جوڑ دیا ۔غالبااس سے اس کا مقصد یا تو احتجاج کرنے والوں کو خوف زدہ کرنا تھا اور ان پر ملک دشمنی کے الزامات عائد کرنے تھے یا پھر اس احتجاج کی حمایت کرنے والوں کے دلوں میں دہشت پیدا کرنا تھی ۔لیکن احتجاج مخالفین کی یہ چال ناکام ہوگئی ۔

 

اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے انھوں نے 26 جنوری کو اپنے لوگوں کے ذریعہ پر امن احتجاج کو پر تشدد بنانے کی کوشش کی۔یہ تو اچھا ہوا کہ کسانوں نے اپنے ہوش و حواس پر قابو رکھا ورنہ حالات بہت خراب ہوسکتے تھے اور مخالفین چاہتے بھی یہی تھے کہ حالات خراب ہوں تاکہ احتجاج کو اکھاڑ پھینکنے کا جواز مل جائے۔جیسا کہ دہلی فساد کراکے شاہین باغ پر دباو بنایا گیا تھا۔کسان آندولن کا مذاق اڑانے ،ان کی قیادت کو ذلیل کرنے اور ڈرانے دھمکانے کے سارے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ابھی چند روز پہلے وزیر اعظم نے اس احتجاج کو آندولن جیوی کا نام دے کر مذاق اڑایا یعنی یہ وہ تحریک ہے جس کی کوئی جڑ نہیں ہے ،جب اس پر تھو تھو ہوئی تو اسی آندولن کو پوتر یعنی مقدس کہہ دیا ۔الفاظ اور جملوں کا یہ تضاد صرف مودی جی کی ہی نہیں بلکہ ان کے تمام خاص دوستوں کی پہچان ہے۔ان سب کے باوجود احتجاج کو 26 جنوری کو نئی غذا مل گئی اور اتر پردیش میں راکیش ٹکیت کے آنسوؤں کی وجہ سے کسان لیڈر شپ میدان میں کھل کر آگئی جو ابھی تک ایک یوگی کے مظالم کے سامنے خاموش تھی۔ ۔اب یہ احتجاج مغربی اتر پردیش سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں پھیل گیا ہے ۔

115763222 farmer

کسان ملک کی معیشت میں اہم رول ادا کرتا ہے ۔اسی لیے اس کو لوگ ان داتا تک کہتے ہیں۔ہمارا ملک زراعت پردھان دیش کہلاتا ہے ۔لیکن ہمارے ملک کا کسان ہمیشہ سے ہی پریشان رہا ہے ۔گزشتہ پچیس سال سے کسانوں کی خود کشی کے اعداد و شمار میں اچھا خاصا اضافہ ہوا ہے ۔حکومتوں نے ہمیشہ کسانوں کے مفادات پر ڈاکہ ڈالا ہے۔جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے کسانوں کو غلام بنانے کی قواعد شروع ہوگئی ہیں ۔حکومت حاصل کرنے کے لیے کسانوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کی آمدنی کو دوگنا کیا جائے گا۔حکومت حاصل کرنے کے بعدسبسڈیز ختم کی جارہی ہیں،MSPپر حکومت خاموش ہے،بجلی کے دام بڑھائے جارہے ہیں،کریڈٹ کارڈ کے بہانے بینک کے قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور ان حالات کے چلتے کسان زندگی کے مقابلے موت کو ترجیح دے رہا ہے۔اب حکومت بجائے اس کے کہ کسانوں کو سہولت فراہم کرتی ،پیداوار کی لاگت میں اس کے ساتھ شرکت کرتی ،بجلی پانی کی فراہمی مفت ہوتی تو کسان مزید محنت کرکے زراعت کو فروغ دیتے اس کے بجائے حکومت نے نئے قوانین کے ذریعے کسانوں کو ان کی پیداوار اور زمینوں پر سرمایہ داروں کو اختیارات دے کر زمین دارانہ نظام کو زندہ کردیا ہے ۔

Famers meeting 3 1200 1

یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ کسی بھی جمہوری ملک میں منتخب حکومت کا کام اپنے عوام کی فلاح و بہبود ہوتا ہے مگر ہمارے ملک کی منتخب حکومت کے تمام تر فیصلے عوام مخالف ہی ہوتے ہیں۔ماضی میں حکومتوں کے خلاف احتجاج ہوتا تھا تو حکومت یا تو احتجاج کرنے والوں کو مطمئن کرتی اور ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرلیتی تھی یا پھر اپنے قوانین واپس لے لیتی تھی ۔لیکن موجودہ حکومت کا رویہ اس سلسلے میں جمہوری اقدار و روایات کے خلاف رہا ہے ۔گزشتہ سات سال میں ایسے کئی فیصلے ہوئے جن کی عوام نے مخالفت کی مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے یہ طے کرلیا ہے کہ وہ اپنی من مانی کرے گی اور اپنے فیصلے جبرا عوام پر نافذ کرے گی ۔ظاہر ہے یہ رویہ وہی پارٹی اور حکومت کرسکتی ہے جو جمہوریت کے بجائے فسطائیت اور آمرانہ طرز حکومت کو پسند کرتی ہو۔

کسانوں کے اس آندولن اور احتجاج میں اب تک دوسو سے زائد افراد کی جان جا چکی ہے ۔کروڑوں اور اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ عوام کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ملک کی معیشت اب تک کے سب سے خراب حالات کا شکار ہے ۔عوام سے لے کر خواص تک پریشان ہیں ۔مگر حکومت کو کوئی احساس نہیں ۔ہمارے وزیر اعظم بعض مواقع پر بڑے نرم دل واقع ہوئے ہیں ابھی حال ہی میں راجیہ سبھا سے تین افراد کو رخصت کرتے وقت اس طرح آنسو بہا رہے تھے جیسے کہ راجیہ سبھا کے یہ تین ارکان راجیہ سبھا کے بجائے دنیا سے رخصت ہو رہے ہوں ۔خاص طور پر غلام نبی آزاد پر تو موصوف کی آنکھوں نے دریا دلی کا کچھ زیادہ ہی مظاہرہ کیا تھا ۔حالانکہ راجیہ سبھا میں لوگ ہر سال آتے جاتے رہتے ہیں ۔لیکن وہی وزیر اعظم کسانوں کو سخت سردی اور بارش میں مرتے دیکھتے ہیں اور ایک آنسو نہیں گراتے،وہی وزیر اعظم غلام نبی آزاد کی ریاست کامحاصرہ کیے بیٹھے ہیں ہزاروں کشمیریوں کے مرنے پر دو لفظ نہیں بولتے ،ان کی وزارت عظمی کے دوران دلتوں اور مسلمانوں پر ظلم ہورہے ہیں ان کے پاس ہمدردی کا کوئی مرہم نہیں ہے ،مگر گجرات کے تاجروں کے قتل اور راجیہ سبھا کے ارکان کے رخصت ہونے پر ان کی آنکھوں سے اشکوں کا سمندر جاری ہوجاتا ہے ۔

جمہوری طرز حکومت میں اپوزیشن کی موجودگی ملک کے استحکام کے لیے مفید بھی ہے اور ضروری بھی ۔حکومت کے فیصلوں سے اختلاف کرنا جمہوری ملک میں شہریوں کا بنیادی حق ہے اس حق کے استعمال کے باوجود وہ شہری اپنے ملک کی حکومت کی جانب سے انسانی ہمدردی اور خیر خواہی کا مستحق ہے ۔ملک کے کسان کی موت بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی لیڈر یا فوجی کی ۔ملک کے مکھیا کو اپنے دل کو ذرا بڑا کرنا چاہیئے اور اپنے مخالفین کی موت پر بھی اظہار افسوس کرنا چاہے ۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس ملک کی ترقی ،خوش حالی اور استحکام سب متاثر ہوتےہیں ۔

068ef308 9853 4411 8565 28b359dd6cfc

کسانوں کے طویل احتجاج کے باوجود کسانوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ قوانین کی مکمل واپسی تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم کرچکے ہیں مگر موجودہ حکومت کے غیر جمہوری طرز عمل اور غیر انسانی سلوک کو دیکھتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہو ں اور عدالتوں سے لے کر تمام جمہوری اداروں تک ان قوانین کے خلاف آواز بلند کی جائے۔اسی کے ساتھ ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار رہا جائے۔کسان آندولن کے دوران دوسو سے زائد کسانوں کی موت کو یوں ہی ضائع نہ ہونے دیا جائے اس کے لیے ضرورت پڑے تو متحد ہوکر اپوزیشن کے تمام ممبران پارلیمنٹ اورممبران اسمبلی کو اپنی پارلیمانی و اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دے دینا چاہئے ۔اگر ایسا نہ کیا گیاتوکچھ دن بعد شاہین باغ کے تناظر میں دہلی فساد جیسا کوئی خونی کھیل بھی کھیلا جا سکتا ہے جس کی ہلکی سی جھلک 26 جنوری کو ہم دیکھ چکے ہیں ۔فسطائیت اپنی حکومت بچانے اور لوگوں کی گردنیں جھکانے کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ عوامی احتجاج کے سامنے وقت کا فرعون بھی مات کھا جاتا ہے ۔

ساری عمر تو چین سے جینے نہیں دیا
آنکھوں میں تری آج یہ آنسو فضول ہیں

کلیم الحفیظ ۔دہلی

Posts created 52

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Begin typing your search term above and press enter to search. Press ESC to cancel.

Back To Top