لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

ششو مندر اور ودھیا مندر کے طلبہ کی طرح مدارس کے فارغین اعلی ترین مناصب پر کیوں نہیں پہنچ سکتے؟

 

عام طور پر مدارس کے تعلق سے یہ مشورہ دیا جاتا ہےکہ اہل مدارس کو اپنے نصاب تعلیم میں جدید علوم کو شامل کرنا چاہیے ۔کسی حد تک یہ مشورہ درست بھی ہے اور اس پر بہت سے مدارس نے عمل بھی کیا ہے ۔لیکن یہ مشورے ان لوگوں کی جانب سے آتے ہیں جو مدارس کے نظام تعلیم اور طریقہ تعلیم سے پوری طرح واقفیت نہیں رکھتے ۔مدارس کے پورے سسٹم پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے نظام میں چند ضروری مضامین مثلا ہندی انگریزی اور حساب کو ہی شامل کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی ابتدائی درجات میں ۔بڑی کلاسیز میں خود ان کے اتنے مضامین ہیں کہ وہ مزید جدید علوم کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔سائنس، حساب،جغرافیہ یا میڈیکل اور انجینئرنگ کے مضامین کی ان سے توقع رکھنا مناسب نہیں ہے ۔اہل مدارس کو شکوہ ہے کہ ہمیں مشورہ دینے والے کبھی اسکول اور کالج کو یہ مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ وہ اپنے یہاں حفظ اور عالمیت کے کورس شروع کریں ۔ظاہر ہے ان کا شکوہ اگرچہ بجا ہے لیکن جدید تعلیمی اداروں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے ۔وہ زیادہ سے زیادہ اردو کے ساتھ دینیات کا مضمون پڑھا سکتے ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ حفاظ قرآن اور عالمیت کی تعلیم حاصل کرنے والے کیا کریں ۔ان پر جدید تعلیم کے دروازے کیسے کھلیں؟

حفظ کرنے کے بعد عام طور پر طلبہ اپنی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں ۔ان میں سے چند طلبہ ہی عالمیت کی تعلیم کے لیے بڑے مدارس کا رخ کرتے ہیں ۔ان میں بھی 50 فیصد طلبہ تعلیم مکمل نہیں کرتے ۔اس طرح ایک بڑی تعداد نامکمل تعلیم کے ساتھ اپنی زندگی گزارتی ہے۔حفظ کرتے کرتے عمر بھی 12 یا 14 سال ہوجاتی ہے ۔زیادہ تر طلبہ کا تعلق بھی غریب گھرانوں سے ہوتا ہے ۔ان کی معاشی مجبوریاں بھی ان کو مزید تعلیم سے روک کر ذریعہ معاش اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہیں ۔ان حالات میں حفاظ قرآن پریشانی میں پھنس جاتے ہیں ۔ان کی تعلیم ان کے لیے مسجد اور مکاتب کے دروازے ہی کھولتی ہے ۔مساجد کی تعداد محدود ہے ۔ ہر حافظ کو امامت ملے یہ ممکن نہیں ہے۔مکاتب میں بھی زیادہ گنجائش نہیں ہوتی ۔بعض ہوشیار حفاظ اور عالم اپنا مکتب یا مدرسہ قائم کرلیتے ہیں ۔ہم مسلم معاشرے میں مکاتب اور مدارس کی جو کثرت دیکھتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مدارس کے فارغین کے سامنے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا کہ یا تو وہ محنت مزدوری کریں یا مسجد کی امامت کریں یا مدرسے میں تدریس کے فرائض انجام دیں ۔اگر آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ جدید تعلیم کی مخالفت کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ طبقہ خود جدید تعلیم نہ حاصل کرتا ہے اور نہ کسی کو جدید تعلیم دے سکتا ہے ۔جو چیز خود نہیں آتی اس کو ناجائز و ممنوع کہہ کر آسانی سے پیچھا چھڑا لیا جاتا ہے ۔مسلم بستیوں اور قصبوں میں چند قدم کے فاصلوں سے مساجد و مکاتب مل جائیں گے ۔مسلکی اختلافات اور غیر ضروری مسائل کو بھی اسی لیے ابھارا جاتا ہے کہ معاشی ضروریات کی تکمیل ہو ۔ان باتوں سے میرا مقصد کسی طبقہ کی دل آزاری بالکل نہیں ہے اور نہ میں مدراس کے قیام پر انگلی اٹھا رہا ہوں ۔میں تو اس طبقہ کی وہ مجبوریاں پیش کررہا ہوں جو ان کے سامنے ہیں اور ان مجبوریوں کے پیش نظر جو ان کا طرز عمل ہے ۔

حفاظ قرآن ملت کا ذہین طبقہ ہے ۔جو طلبہ ایک ضخیم کتاب کو کسی زیر و زبر کی غلطی کے بغیر زبانی یاد کرلیتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں وہ کس قدر قوت حافظہ (Memorizing Power )کے مالک ہوں گے آپ اندازہ نہیں کرسکتے ۔جن طلبہ کا طرز زندگی اتنا سادہ ہو کہ ان کے مہینے بھر کے کھانے کا خرچ کسی امیر زادے کے ایک دن کے جیب خرچ سے بھی کم ہو آپ ان کی قناعت پسندی کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے ۔جو لوگ ایک مزدور کی اجرت سے بھی کم پر کام کرسکتے ہوں ان کی کفایت شعاری لائق تقلید ہے۔ان کے خلوص اور ان کی محنت پر کس کو شک ہوسکتا ہے ۔ذرا سوچئے ان لوگوں کے ہاتھوں میں ملک کا نظام آجائے تو ملک ہر طرح خوش حال ہوجائے ۔ایک حافظ و عالم اگر ڈاکٹر بن جائے تو اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ غیر ضروری میڈیکل ٹیسٹ ،بلاوجہ کے آپریشن اور میڈیکل کرپشن سے مریضوں کو بچائے گا ۔اس کے سینے میں قرآن ہو اور زباں پر ھوالشافی کا ورد ہو تو مریضوں کی شفا یابی کی شرح میں اضافہ ہوگا ۔ایک حافظ اگر انجینئر ہو تو بننے سے پہلے گرنے والی عمارتیں عالم وجود میں ہی نہ آئیں گی ۔ اسی طرح یہ علماء اور حفاظ اگر وکیل اور جج ہوجائیں تو بے گناہ سزا سے بچ جائیں ،یہ اگر کمشنر و کلکٹر بن جائیں تو انسانیت شرم سار ہونے سے محفوظ ہوجائے ۔

آپ میری ان باتوں کو شاید دیوانے کی بڑ کہہ کر نظر انداز کردیں اور ناممکن کہہ کر ٹھکرادیں لیکن میں کہتا ہوں یہ سب ممکن ہے اور ملک کے کئی مقامات پر یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔اس کے لیے بس آپ کی ذرا سی توجہ کی ضرورت ہے ۔مدارس کو مشورے دینے کے بجائے خود عملی اقدامات کی جانب پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے ۔ضرورت ہے کہ ہم ضلعی سطح پر کسی بھی معیاری اسکول میں حافظ پلس اور عالم پلس کا کورس شروع کریں۔ اس کورس میں طلبہ کو ایک فاونڈیشن کورس سے گزارا جائے جس کی مدت 6مہینے سے ایک سال ہو ۔اس کلاس میں طلبہ کو بنیادی مضامین ہندی،انگریزی،حساب،سائنس اور سوشل سائنس کے مضامین کی تعلیم اس طرح دی جائے کہ وہ فاونڈیشن کورس کے بعد نویں کلاس کے قابل ہوجائیں ۔اس کے بعد درجہ نو میں باقاعدہ داخل کرلیا جائے ۔اس طرح یہ طلبہ بھی باقی بچوں کی طرح آگے کی تعلیم حاصل کرلیں گے ۔اسی کے ساتھ اگر ان طلبہ کو اسکولی تعلیم کے بعد مزید چار گھنٹے تعلیم دی جائے تو یہ طلبہ اپنا مقابلہ جاتی امتحانات پاس کرسکتے ہیں ۔

مدراس کے فارغین سے بھی میری گزارش ہے کہ حکومت کے عصری تعلیمی نظام سے استفادہ کریں ۔مختلف یونیورسٹیاں اے ایم یو، جامعہ ، مانو وغیرہ کے کئی پروگرام فارغین مدارس کے لیے ہیں ۔اگنو اور این آئی او ایس کے ذریعے بھی عصری ڈگریاں لی جا سکتی ہیں ۔اترپردیش مدرسہ بورڈ کے امتحانات مولوی منشی وغیرہ کی اسناد اعلی تعلیم میں معاون ہیں ۔دیگر ریاستوں میں بھی اس طرح کا نظم ہے ان سہولیات اور ذرائع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔

حفاظ اور عالم دیگر افراد سے زیادہ ذہین،محنتی ،سادگی اور قناعت پسند ہوتے ہیں.ان طلبہ کو اگر موقع مل جائے تو بڑی سے بڑی کامیابی مل سکتی ہے اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اگر حفاظ اور علماء قومی دھارے میں شامل ہوجائیں تو قوم اور ملک کی تصویر بدل سکتی ہے۔میری گزارش ہے کہ مسلمانوں کے ذریعہ چلائے جارہے انٹر کالج اور سینیئر سیکینڈری اسکولوں میں ان کو مواقع دیے جائیں ۔قوم کے اہل مال حضرات جو ان کے حفظ اور علم دین کے لیے ایک کثیر رقم خرچ کرتے ہیں وہ آگے کی جدید تعلیم کے لیے بھی ان کی کفالت کریں تو ان کا سابقہ پیسہ بھی کامیاب ہوسکتا ہے ۔یہ طلبہ جب ایک اچھا ذریعہ معاش حاصل کرکے خود مال دار ہوجائیں گے تو اپنے خاندان کی غربت بھی دور کریں گے اور اپنے جیسے دیگر طلبہ کی بھی کفالت کریں گے ۔اگر پورے ملک میں ہر سال 5000 حافظ اور عالم جدید تعلیم کے کورس میں داخل ہوں تو آنے والے دس بیس سال میں ایک بڑی تعداد مستفید ہوکر ہوا کا رخ بدل دے گی۔ ملک میں موجود ملی اور سماجی تنظیموں کو اس جانب ضرور متوجہ ہونا چاہیے۔انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے ذریعہ بھی یہ کام بخوبی اور آسانی سے کیا جاسکتا ہے بلکہ کیا جانا چاہیے ۔اس کے پاس ذرائع اور وسائل بھی ہیں ۔جب ششو مندر اور ودھیا مندر کے طلبہ ملک کے اعلی عہدوں پر فائز ہوسکتے ہیں تو مدارس کے طلبہ کیوں نہیں؟

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

کلیم الحفیظ۔نئی دہلی

Posts created 52

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Begin typing your search term above and press enter to search. Press ESC to cancel.

Back To Top