وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

توہین قرآن کرنے والوں کے پس پردہ دیکھنے کی ضرورت ہے ملت کو جذباتی مسائل میں الجھائے رکھنا بھی سازش کا حصہ ہے

آزادی کے بعد سے ہی بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ آئے دن حادثات پیش آتے رہے ہیں۔سرکار کسی کی بھی ہو سب کا مقصد ایک ہی رہا ہے کہ مسلمانوں کو جذباتی مسائل میں الجھائے رکھا جائے تاکہ وہ نہ تعلیم حاصل کرسکیں، نہ کاروبار کر سکیں،نہ اپنا معاشرتی نظام درست کرسکیں، نہ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوچ سکیں۔اگر آپ 1947 سے 2021 تک نظر ڈالیں گے تو دیکھیں گے کہ ہر پانچ سال میں پنچ ورشیی یوجنا کی طرح ملت کے سامنے مسائل پیدا کیے گئے۔دو عشروں تک تقسیم ملک کے لیے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھیراکر فسادات کرائے گئے۔مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے،کبھی اذان کی آواز کو لے کر عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے رہے۔کبھی اردو زبان کا مسئلہ کھڑا کیا گیا، آزادی کے ساتھ ہی بابری مسجد کا ڈرامہ شروع ہوا جو 70سال تک چلا۔سرکاری تعلیمی اداروں میں کبھی سرسوتی وندنا، کبھی سوریہ نمشکار کے مسائل پیدا کیے گئے۔کبھی طلاق بل،کبھی CAA کبھی NRC کا ڈنڈا دکھایا گیا،کبھی کشمیر کے لیے مسلمان ستائے گئے۔غرض یہ چند مسائل ہیں جن کی جانب میں نے اشارہ کیا ہے۔کبھی یہ مسائل بالواسطہ اور کبھی بلا واسطہ پیدا کیے گئے۔بلا واسطہ میں ہی ملعون کا وہ بیان ہے جو اس نے حال ہی میں قرآن مجید کے تعلق سے دیا ہے۔اس طرح سے قرآن مجید کی آیات پر اعتراض کوئی نیا حادثہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی اس طرح کے مقدمات عدالتوں میں جاتے رہے ہیں اور مدعی منھ کی کھاتے رہے ہیں۔البتہ توہین قرآن کرنے والوں کے پس پردہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ملت کو جذباتی مسائل میں الجھائے رکھنا بھی سازش کا حصہ ہے۔

 

جیسا کہ میں نے اشارہ کیا کہ ان تمام ایشوز کو اٹھانے کا واحد مقصد یہ ہے کہ امت مسلمہ ملت واحدہ اور خیر امت نہ بن جائے۔وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو سنبھلنے کا،سوچنے کا،پڑھنے کا،سکون سے کاروبار کرکے خوش حال ہونے کا موقع نہ ملے۔اگر انھیں ملک میں ترقی اور خوش حالی میسر آئے گی تو مسلمان ہمارے منھ لگیں گے۔ہم سے اقتدار میں شرکت کا مطالبہ کریں گے اور ہوسکتا ہے کہ اقتدار پر قابض ہی ہوجائیں۔ یہ بے بنیاد اندیشے برادران وطن کے اندر پیدا کیے جاتے رہے ہیں۔گزشتہ سو سال سے ایک تنظیم خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف زہر پھیلا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہیے۔کیا وہ گردن جھکا کر خاموشی سے اپنے دین و شریعت کی توہین برداشت کرتے رہیں؟کیا وہ اپنے تمام اختیارات اور حقوق سے دست بردار ہوجائیں اور سر تسلیم خم کردیں؟یہ اہم سوال ہے۔ اس لیے کہ مسلمانوں کا جوابی رویہ ہی ان کے مستقبل کی بنیاد ہے۔

 

اس سوال کا ایک جواب وہ ہے جو ہمارے قائدین ہمیشہ ہمیں دیتے رہے ہیں۔یعنی ہماری اپنی کمزوریاں، ہماری کوتاہیاں،ہماری اخلاقی خرابیاں،ہمارا انتشار ہمیں لے ڈوبا ہے۔گزشتہ ڈیڑھ دوسو سال سے ہمارے مقررین ہمارے واعظین ہماری داخلی کمزوریوں کی جانب متوجہ کرتے رہے ہیں۔ان تمام وجوہات سے مجھے اتفاق ہے۔ہمیں اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پانا چاہیے۔لیکن میں اس سے آگے بڑھ کر سوچنے کی بات کررہا ہوں۔میں بتانا چاہتا ہوں کہ ان داخلی خرابیوں اور کمزوریوں کے ساتھ ہی بیرونی سازشیں بھی ہمارے موجودہ حالات کی ذمہ دار ہیں۔میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ہمارا تعلق اس قوم سے ہے جس نے اپنے خون جگر سے بھارت کی آبیاری کی ہے۔جس نے عظیم اور اکھنڈ بھارت کی بنیاد رکھی ہے۔جس نے وہ عظیم الشان عمارتیں بنائیں کہ آج بھی اپنی عظمت کی گواہی دے رہی ہیں۔ہماری یہ عظمت ہم سایہ قوم کو ایک نظر نہیں بھارہی ہے۔وہ ہمارے ذہنوں سے ہماری تاریخ مٹانا چاہتی ہے۔وہ انتقام کے جذبے سے کام کررہی ہے۔وہ ہمیں اس طرح دبانا چاہتی ہے کہ ہم کبھی سر نہ اٹھا سکیں،اس نے اسپین کا مطالعہ کرکے ہمارے لیے حکمت عملی طے کی ہے۔ جہاں تک اس ملعون کا تعلق ہے وہ اگرچہ مسلم خاندان سے ہے۔لیکن دشمنان اسلام کا آلہ کار ہے۔اس کے اندرکوئی قابلیت تو ہے نہیں اس لیے وہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے اوچھے حربے اختیار کررہا ہے۔ ان اوچھی حرکتوں کا جواب ایک تو وہ ہے جو ملت ہر موقع پر دیتی رہی ہے۔یعنی اخبارات میں احتجاجی خبریں،سڑکوں پر نعرے بازی،جلسے جلوس،فتوے اور گالیاں اور بہت کچھ ہوا تو عدالت میں ایک اپیل۔ کچھ دن شور مچایا جاتا ہے بعد میں کسی دوسرے حادثے کے انتظار میں ہم بیٹھے رہتے ہیں۔

 

احتجاجی جلسے،نعرے،اور فتوے اپنی جگہ پرہیں اور جمہوری ملک میں اپنی آواز پہنچانے کے لیے ضروری بھی ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ سنجیدہ اور پائیدار لائحہ عمل اور جواب کی ضرورت ہے۔قرآن پر اعتراض ہو،اذان کی آواز سے تکلیف ہو یا مندروں میں غیر ہندووں کے پانی پینے اور ان کے داخلے پر پابندی کے پوسٹر ہوں ان کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ ملت اسلامیہ اپنے کردار سے ثابت کرے کہ قرآن امن و سلامتی قائم کرنے والی کتاب ہے۔اذان کے الفاظ ایشور کی مہانتا کا اعلان ہیں اور اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلانے کی دعوت ہے۔اسلام باہمی محبت،اخوت اور بھائی چارے کا عنوان ہے۔ مندر کے دروازے بھلے ہی غیر ہندووں کے لیے بند کیے جارہے ہوں لیکن ہمیں اپنی مساجد پر یہ بینر لگانا چاہیے کہ یہ انسانوں کے پالنہار کا گھر ہے یہاں تمام انسانوں کو آنے کی اجازت ہے۔یہ موقع ہے جب ہم اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک آسانی سے پہنچا سکتے ہیں۔ احمقوں کی حماقت نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم 26 آیات کے ساتھ پورے قرآن کی تشریح و وضاحت دنیا کے سامنے پیش کریں۔برادران وطن کے درمیان اسلام کی تعلیم ڈسکس کریں۔یہ بھارت کی خوش قسمتی ہے کہ ابھی آئین زندہ ہے اگرچے اس کا گلا گھونٹنے کی پوری تیاری ہے۔ابھی ملک میں جمہوری اداروں کے دروازے کھلے ہیں،اگرچے انھیں چھوٹا اور تنگ ضرور کیا جارہا ہے۔یہ بات بھی ہمارے لیے باعث اطمینان ہے کہ اہل ملک کی اکثریت فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی علم بردار ہے۔

 

ان مذموم حرکتوں کا ایک جواب یہ ہے کہ ہم ان مسائل میں الجھنے کے بجائے اپنے ہدف اور منزل پر نظر رکھیں۔ہم یہ طے کریں کہ ایک وقت کھائیں لیکن اپنی نسل کو ضرور پڑھائیں گے،،ہم طے کریں کہ فضولیات کو چھوڑ کر کفایت شعاری کو اپنائیں گے اورمعاشی طور پر خوش حال ہوں گے اور ہم یہ عہد کریں کہ سیاسی سطح پر اپنی قیادت کے زیر سایہ ایک مضبوط متبادل بن کر ابھریں گے۔پاگلوں اور احمقوں کے کہنے سے قرآن کے زیر و زبر میں بھی فرق نہیں آسکتا اس پاک کتاب کا محافظ اللہ ہے لیکن قرآن کو نہ سمجھنے اور اس پر عمل نہ کرنے سے بہت نقصان ہوگا۔دنیا قیمتی غلافوں بند قرآن کو نہیں، چلتے پھرتے قرآن کو دیکھنا چاہتی ہے۔

فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

کلیم الحفیظ۔نئی دہلی
Posts created 52

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Begin typing your search term above and press enter to search. Press ESC to cancel.

Back To Top